“میرے سائیں کو تاریخ میں یاد رکھا جائیگا”

یہ بات ھے 26 فروری 2020 کی جب میں اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ اندرون سندھ گھومنے گیا ھوا تھا تو رات کو کھانے کے بعد جب دوستوں کے ساتھ بیٹھے ھوئے تھے تو فورا فون پر ایک ایس ایم ایس موصول ہوا کہ کراچی میں کرونا کا پہلا کیس سامنے آگیا ھے اور اس ایس ایم ایس بھیجنے والے دوست نے کہا کہ جب آپ واپس آئے تو اپنے ساتھ ماسک وہاں سے ضرور لیکر آئے اپنے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی میں نے حیرانگی سے پوچھا “کیا کراچی میں ماسک نایاب ھوگئے ھیں؟ اسنے کہا بالکل اور قیمت بھی دگنی ھوگئی ھیں ہر چیز پر ذخیرہ اندوزی جاری تھا لیکن کمشنر کراچی آرام کی نیند فرمارھے تھے، خیر صبح ھوئی تو ایک اور ایس ایم ایس موصول ہوا کہ کرونا کے سبب تمام تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل موخر کردی گئی ھیں لوگوں نے اور پرائیوٹ اسکولز ایسوسیشن اس فیصلے کو عجلت میں لیا گیا فیصلہ قرار دے دیا پھر وہ ھوا جسکا ڈر تھا بالآخر سندھ حکومت نے 23 مارچ کو صوبہ بھر میں سخت لاک ڈاون نافذ کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کرلی تاکہ سندھ حکومت عوام کو گھروں تک محدود رکھنے میں کامیاب ھوں ان سب اقدامات لینے کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے سائیں کو سراہنا شروع کیا اور ایک دم سائیں کو مسیحا قرار دے دیا گیا اور طرح طرح کی جملوں سے نوازا گیا اس ایک جملے میں ایک یہ جملا بھی تھا کہ “میرے سائیں کو تاریخ میں یاد رکھا جائیگا”۔

لیکن کیا سائیں واقعی مسیحا نکلے؟

سائیں مسیحا نکلے یا نہیں اسکا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑ دیتا ھوں اس لاکڈاون میں سے سب زیادہ متاثر وہ لوگ ھوئے جو روزانہ کی بنیاد پر کماتے تھے سندھ کی حکمران جماعت کے چئرمین نے 21 مارچ کو اعلان کیا کہ ہر غریب دیہاڑی دار کو راشن کی فراہم کیا جائیگا اور راشن کیلئے ایک ارب 14 کروڑ مختص کردئے گئے ھیں اس اعلان کے بعد لوگوں میں ایک امید آگئی لیکن بدقسمتی سے وہی ھوا جسکا ڈر تھا میرے سائیں نے کسی ایک گھر میں بھی راشن فراہم نہیں کیا آج 14 مئی تک بھی سندھ حکومت کی جانب سے کسی کو بھی راشن فراہم نہیں کیا گیا لیکن پھر بھی “میرے سائیں کو تاریخ میں یاد رکھا جائیگا”۔

Leave a comment